English: Once upon a time, a dwarf lived happily with his wife in a tree. One day, the dwarf went out for some work and said to his wife, "Take care of the house, I will be back soon." Saying this, the dwarf left, and after finishing her chores, his wife stood by the window waiting for him.
Urdu: پیارے بچو! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک درخت میں ایک بونا اپنی بیوی کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہا تھا۔ ایک دن بونا کسی کام سے اپنے گھر سے باہر جاتا ہے اور اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ "تم گھر کا خیال رکھنا میں ابھی آتا ہوں۔" یہ کہہ کر وہ بونا چلا جاتا ہے اور اس کی بیوی اپنے کام ختم کر کے بونے کے انتظار میں کھڑکی میں کھڑی ہو جاتی ہے۔
English: Meanwhile, a King passed by with his soldiers. Suddenly, the King saw the dwarf's wife, who was very beautiful. The King ordered his soldiers, "Pick her up and take her to the palace!" Hearing this, the King's soldiers seized the dwarf's wife and took her away to the palace.
Urdu: اتنے میں وہاں سے ایک بادشاہ کا گزر ہوتا ہے جو اپنے سپاہیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ بادشاہ کی نظر اچانک بونے کی بیوی پر پڑتی ہے جو کہ بہت ہی خوبصورت ہوتی ہے۔ بادشاہ اپنے سپاہیوں کو حکم دیتا ہے کہ "اس کو اٹھا لو اور محل میں لے چلو!" یہ سنتے ہی بادشاہ کے سپاہی بونے کی بیوی کو اٹھا کر بادشاہ کے محل لے جاتے ہیں۔
English: When the dwarf returned and saw the door open and his wife missing, he became very worried and set out to find her. An ant told him, "The King has taken your wife away." Hearing this, the dwarf became furious.
Urdu:جب بونا واپس آتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس کے گھر کا دروازہ کھلا ہے اور اس کی بیوی غائب ہے تو وہ پریشان ہو جاتا ہے اور اپنی بیوی کو ڈھونڈنے کے لیے نکل پڑتا ہے۔ اس کو ایک چیونٹی بتاتی ہے کہ "تمہاری بیوی کو بادشاہ اٹھا کر لے گیا ہے۔" یہ سنتے ہی بونے کو غصہ آ جاتا ہے۔
English: The dwarf went into the forest and cut reeds to build a carriage so he could go to the King's palace and bring back his wife. Once the carriage was ready, he set off. On the way, he met an ant. The ant asked, "Dwarf brother, dwarf brother, where are you going?"
Urdu: بونا جنگل میں جاتا ہے اور سرکنڈے کاٹ کے لاتا ہے تاکہ ان کو کاٹ کے اس سے ایک گاڑی بنائے اور اس میں پھر وہ بادشاہ کے محل جائے تاکہ اپنی بیوی کو لا سکے۔ بونے کی گاڑی بن کے جب تیار ہو جاتی ہے تو وہ بادشاہ کے محل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ راستے میں اس کو ایک چیونٹی ملتی ہے۔ چیونٹی پوچھتی ہے، "بونے بھائی بونے بھائی کہاں جا رہے ہو؟"
English: The dwarf replied, "In my two-reed carriage, I am going to fight the King to the death!" The ant said, "Let me come too, I will be of great help." The dwarf said, "Come, sit in my ear," and the ant crawled into his ear.
Urdu: بونا کہتا ہے، "میری دو سرکنڈے والی گاڑی میں بادشاہ سے لڑنے مرنے جاؤں۔" تو چیونٹی کہتی ہے، "میں بھی چلوں، میں بھی چلوں بڑے کام آؤں گی۔" تو بونا کہتا ہے، "آجا میرے کان میں بیٹھ جا" اور چیونٹی اس کے کان میں بیٹھ جاتی ہے۔
English: After that, the dwarf moved forward again. On the way, he met Fire. Fire said, "Dwarf brother, dwarf brother, where are you going?" The dwarf replied, "In my two-reed carriage, I am going to fight the King to the death!" Fire said, "Dwarf brother, dwarf brother, let me come too, I will be of great help." He said, "Come, sit in my ear."
Urdu: اس کے بعد وہ بونا پھر آگے چل پڑتا ہے۔ راستے میں اس کو آگ ملتی ہے۔ آگ بولتی ہے، "بونے بھائی بونے بھائی کہاں جا رہے ہو؟" بونا کہتا ہے، "میری دو سرکنڈے والی گاڑی میں بادشاہ سے لڑنے مرنے جاؤں۔" تو آگ کہتی ہے، "بونے بھائی بونے بھائی میں بھی چلوں بڑے کام آؤں گی۔" تو وہ کہتا ہے، "آجا میرے کان میں بیٹھ جا۔"
English: Then he went further and met a Dog. The dog said, "Dwarf brother, dwarf brother, where are you going?" The dwarf replied, "In my two-reed carriage, I am going to fight the King to the death!" The dog said, "Dwarf brother, dwarf brother, let me come too, I will be of great help." The dwarf said, "Come, sit in my ear."
Urdu: اس کے بعد وہ پھر آگے جاتا ہے، راستے میں اس کو ایک کتا ملتا ہے۔ کتا کہتا ہے، "بونے بھائی بونے بھائی کہاں جا رہے ہو؟" بونا کہتا ہے، "میری دو سرکنڈے والی گاڑی میں بادشاہ سے لڑنے مرنے جاؤں۔" تو کتا کہتا ہے، "بونے بھائی بونے بھائی میں بھی چلوں بڑے کام آؤں گا۔" بونا کہتا ہے، "آجا میرے کان میں بیٹھ جا۔"
English: Then he moved forward again and encountered the Ocean on the way. The ocean asked, "Dwarf brother, dwarf brother, where are you going?" The dwarf replied, "In my two-reed carriage, I am going to fight the King to the death!" The ocean said, "Dwarf brother, dwarf brother, let me come too, I will be of great help." The dwarf said, "Come, sit in my ear."
Urdu: اس کے بعد وہ پھر آگے چل پڑتا ہے۔ آگے جا کے راستے میں اس کو سمندر ملتا ہے۔ سمندر پوچھتا ہے، "بونے بھائی بونے بھائی کہاں جا رہے ہو؟" تو بونا کہتا ہے، "میری دو سرکنڈے والی گاڑی میں بادشاہ سے لڑنے مرنے جاؤں۔" تو سمندر کہتا ہے، "بونے بھائی بونے بھائی میں بھی چلوں بڑے کام آؤں گا۔" تو بونا کہتا ہے، "آجا میرے کان میں بیٹھ جاؤ۔"
English: Thus, he reached the palace and told the King, "Hand over my wife to me!" The King got angry and ordered his soldiers, "Pick this dwarf up and throw him into the horse stable!" At night, the dwarf said, "Come out, Dog, from my ear and show your work!" The dog came out, ate the legs of all the horses, and went back into the dwarf's ear.
Urdu: اس طرح پھر وہ بادشاہ کے محل میں پہنچتا ہے اور بادشاہ کو کہتا ہے کہ "میری بیوی کو میرے حوالے کر دو!" بادشاہ کو غصہ آ جاتا ہے اور بادشاہ اپنے سپاہیوں کو حکم دیتا ہے کہ "اس بونے کو اٹھا کر گھوڑوں کے استبل میں ڈال دو!" جب رات ہوتی ہے تو بونا کہتا ہے، "چل کتے نکل میرے کان سے اور اپنا کام دکھا!" کتا نکلتا ہے اور تمام گھوڑوں کی ٹانگیں کھا جاتا ہے اور پھر واپس بونے کے کان میں گھس جاتا ہے۔
English: In the morning, the King told his soldiers, "Go and check, the dwarf must be dead." When they went, they were shocked to see all the horses dead while the dwarf sat comfortably on top of them. The King then ordered, "Throw him into the elephant cage!" At night, the dwarf said, "Come out, Ant, and show your work!" The ant entered the elephant's trunk, causing its death, and went back into the ear.
Urdu: صبح ہوتے ہی بادشاہ اپنے سپاہیوں کو حکم دیتا ہے کہ "جاؤ دیکھ کر آؤ یقیناً بونا مر چکا ہوگا۔" جب سپاہی بونے کو دیکھنے جاتے ہیں تو دیکھ کے حیران رہ جاتے ہیں کہ تمام گھوڑے مرے پڑے ہیں اور بونا ان کے اوپر مزے سے بیٹھا ہوا ہے۔ سپاہی ساری بات جا کر بادشاہ کو بتاتے ہیں تو بادشاہ کو بہت غصہ آتا ہے۔ وہ سپاہیوں کو حکم دیتا ہے کہ "جاؤ بونے کو اٹھا کر ہاتھی کے پنجرے میں ڈال دو!" پھر جب رات ہوتی ہے تو بونا کہتا ہے، "چل چیونٹی نکل اور اپنا کام دکھا!" چیونٹی نکلتی ہے اور ہاتھی کی سونڈ میں گھس جاتی ہے جس سے ہاتھی کی موت ہو جاتی ہے اور چیونٹی واپس بونے کے کان میں گھس جاتی ہے۔
English: The next morning, the King was shocked again and ordered, "Throw him into the lion's cage!" At night, the dwarf said to the Fire, "Come out, Fire, and show your work!" The fire burnt the lion and returned to the ear. Seeing the dwarf still alive the next morning, the furious King ordered, "Tie him under my bed!"
Urdu: جب صبح ہوتی ہے تو بادشاہ سپاہیوں کو پھر حکم دیتا ہے کہ "جاؤ دیکھ کر آؤ یقیناً اب تو ہاتھیوں نے اس کا قیمہ بنا دیا ہوگا۔" لیکن جب سپاہی دیکھتے ہیں تو پھر حیران رہ جاتے ہیں کہ ہاتھی مرا پڑا ہے اور وہ بونا مزے سے اس کے اوپر بیٹھا ہوا ہے۔ وہ حیران ہوتے ہیں بادشاہ کو بتاتے ہیں تو بادشاہ کہتا ہے، "اب بونے کو نکال کر شیر کے پنجرے میں ڈال دو، یقیناً شیر اس کو چیر پھاڑ کر کھا جائے گا۔" سپاہی ایسا ہی کرتے ہیں۔ جب رات ہوتی ہے تو بونا آگ سے کہتا ہے، "چل آگ نکل اور اپنا کام دکھا!" آگ شیر کو جلا دیتی ہے اور دوبارہ بونے کے کان میں گھس جاتی ہے۔
English: At night, while the King slept on his bed, the dwarf whispered, "Come out, Ocean, and show your work!" The ocean flooded the entire palace, washing away precious items. The King woke up terrified and begged, "Forgive me! Take your wife and go!" Thus, the dwarf rescued his wife and they lived happily ever after.
Urdu: صبح جب سپاہی بونے کو دیکھنے آتے ہیں تو وہ پھر حیران رہ جاتے ہیں کہ بونا تو ابھی بھی زندہ ہے اور شیر مرا پڑا ہے۔ وہ بادشاہ کو بتاتے ہیں تو بادشاہ کو بہت غصہ آتا ہے اور وہ سپاہیوں کو حکم دیتا ہے کہ "اب اس بونے کو نکال کر میرے پلنگ کے نیچے باندھ دو!" جب رات ہوتی ہے اور بادشاہ اپنے پلنگ پر سوتا ہے تو بونا آہستہ سے سمندر کو کہتا ہے، "چل سمندر نکل اور اپنا کام دکھا!" سمندر نکل کر اس کے پورے محل میں پھیل جاتا ہے اور اس کا قیمتی سامان بہا لے جاتا ہے۔ بادشاہ کی آنکھ کھلتی ہے اور وہ گھبرا کر بونے سے معافی مانگنے لگتا ہے کہ "مجھے معاف کر دو اور اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے جاؤ!" اس طرح بونا اپنی بیوی کو بچا لیتا ہے اور پھر وہ ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔
I love this story
ReplyDeleteAwesome 👌
ReplyDeleteThe king had the crown but,dwarf had the plan 🙌
ReplyDeleteExactly! Brains over brawn, always. It shows that even the smallest person can make a big difference.
ReplyDeleteWhich part of the dwarf's plan was your favorite? You should also check out my story about the "Detective Rabbit"—he's another mastermind!